Wednesday, July 15, 2020

جھنگ کا ایک جانگلی بیمار ہو گیا‘ موت کے آثار نظر آنے لگے تو اس نے دعا کی ”یا اللہ اگر موت دینی ہے تو پھر مجھے مکہ میں دو“وہ حسن اتفاق سے دعا کے بعد صحت یاب ہو گیا‘ وقت گزرا تو وہ بیماری اور یہ دعا دونوں بھول گیا‘وہ دس پندرہ برس بعد عمرے کےلئے سعودی عرب گیا‘ مکہ جا کر اس کی طبیعت خراب ہو گئی‘ وہ جوں جوں دوا لیتا اور ڈاکٹر بدلتا رہا‘ اس کی طبیعت مزید خراب ہو تی رہی یہاں تک کہ وہ بستر سے لگ گیا‘ اس کو لیٹے لیٹے اچانک جھنگ کی پرانی بیماری اور اپنی دعا یاد آ گئی‘ وہ ڈر گیا‘ اٹھ کربیٹھا اور خانہ کعبہ کی طرف منہ کرکے بولا ”اللہ سائیں میں تاں مر ویساں‘
پر یاد رکھیں ول جھنگ توں کوئی مکہ نہ آسی“(یا اللہ میں تو مر جاﺅں گا لیکن یہ یاد رکھنا میرے بعد جھنگ سے کوئی شخص مکہ نہیں آئے گا)۔
آپ کو جھنگ کے اس جانگلی کے لطیفے میں تین سبق ملیں گے‘ اول‘ ہم دعا مکہ کی کرتے ہیں لیکن مکے میں مرنے کےلئے تیار نہیں ہوتے‘ دوم اگر لوگ مکہ میں بھی مرنا شروع ہو جائیں تو یہ وہاں بھی نہیں جائیں گے اور سوم سروائیول یعنی زندہ رہنے کی خواہش انسان کی سب سے بڑی جبلت ہے اور انسان کسی قیمت پر‘ کسی بھی جگہ یہ جبلت سرینڈر نہیں کرتا‘ہم اگر اس لطیفے اور سروائیول کی اس جبلت کو حقیقت تسلیم کر لیں اوراس کا دائرہ ذرا سا بڑھا لیں تو پھر فیملی اور بزنس بھی اس میں شامل ہو جائے گا اور یہ دائرہ ہمیں بتائے گا‘ ہم میں سے کوئی اپنے آپ‘ اپنے خاندان اور اپنے کاروبار کو جوکھم میں ڈالنا پسند نہیں کرتا‘آپ اپنے آپ سے پوچھئے ‘کیا ہم مرنے کےلئے تیار ہیں‘ کیا ہم آسانی سے اپنے خاندان کو مصیبتوں میں رکھنے کےلئے تیار ہو جائیں گے اور کیا ہم چاہیں گے ہم جو کچھ کما رہے ہیں یا ہم نے دن رات ایک کر کے جو کچھ کمایا وہ کسی سرکاری حکم کے نتیجے میں ایک رات میں ختم ہو جائے؟ ہم میں شاید ہی کوئی شخص اس کےلئے راضی ہو گا‘یہ حقیقت ہے ہم سب زندگی میں ترقی کرنا چاہتے ہیں‘ ہم اپنے آپ اور اپنے خاندان کو محفوظ بھی دیکھنا چاہتے ہیں اور ہم اپنے عہدے‘ عزت‘ بزنس اور کمائی کو بھی سکیور رکھنا چاہتے ہیں لیکن سوال یہ ہے کیا بحیثیت پاکستانی ہم یہ حق دوسروں کودینے کےلئے بھی تیار ہیں؟ یہ ایک مشکل سوال ہے‘
آپ کسی دن ٹھنڈے دل و دماغ سے اپنے آپ سے یہ مشکل سوال پوچھیں ‘میرا دعویٰ ہے آپ یہ ماننے پر مجبور ہوجائیں گے ہم بحیثیت قوم اینٹی پراگریس‘ اینٹی ڈویلپمنٹ اور اینٹی بزنس ہیں‘ آپ آج ملک میں نئی بندرگاہ‘ نئی موٹروے‘ نئی ٹرین‘ نیا ائیرپورٹ اور غریب اور یتیم بچوں کےلئے دانش سکول جیسا کوئی نیا ایجوکیشنل سسٹم بنانے کا اعلان کر دیں پورا ملک آپ کے خلاف کھڑا ہو جائے گا اور آپ اگر اس مخالفت کے باوجودیہ کام کر جائیں گے یا آپ اپنا منصوبہ مکمل کر لیں گے تو آپ کو میاں شہباز شریف کی طرح باقی زندگی وکیلوں‘ عدالتوں اور جیلوں میں گزارنی پڑے گی‘
آپ نے پاکستان میںاکثر سنا ہوگا فلاں دس سال پہلے موٹر سائیکل پر تھا‘ یہ آج دس دس لینڈ کروزرز کا مالک ہے‘ یہ حرام کا مال کہاں سے آیا وغیرہ وغیرہ یعنی ہم نے یہ فیصلہ کر لیا ہے ہمارے ملک میں جو شخص موٹر سائیکل سے آگے جائے گا وہ کرپٹ ہو گا‘ ہم اگر اس فارمولے کو درست مان لیں تو پھر دس بائی گیارہ فٹ کے دفتر میں مائیکرو سافٹ کی بنیاد رکھنے والے بل گیٹس اور گھر کے گیراج میں ایپل کمپنی کا دفتر کھولنے والے سٹیوجابز کو پھانسی ہو جانی چاہیے تھی‘
آج امریکا میں ایسے ساڑھے تین سوارب پتی ہیں جن کے پاس جوانی میںبس کا کرایہ بھی نہیں تھا لیکن یہ آج درجن درجن پرائیویٹ جہازوں اور ہیلی کاپٹروں کے مالک ہیں‘ آج پورا امریکا ان لوگوں کو سلیوٹ کرتا ہے‘ان پر فخر کرتا ہے‘ کیوں؟ کیونکہ یہ لوگ امریکا اور امریکیوں دونوں کےلئے انسپریشن ہیں‘ ان کو دیکھ کر ہر امریکی نوجوان یہ سمجھتا ہے میں بھی بل گیٹس اور سٹیوجابز بن سکتا ہوں لیکن ہم نے اپنے معاشرے میں ترقی کو جرم بنا دیا ہے‘ ہمارے ملک میں کچھ نہ کرنے والے معزز ہیں اور محنت کر کے اوپر آنے والے چور ہیں‘ کیوں!آخر کیوں؟
دنیا ملٹی نیشنل کمپنیوں کو اپنے ملک میں کاروبار کےلئے لمبی چوڑی مراعات دیتی ہے‘ یہ انہیں مفت زمین‘ قرضے اور اپنی رقم واپس نکال لے جانے کی سہولتیں تک دیتی ہے لیکن ہمارے ملک میں مقدر کا مارا جو بھی آ جاتا ہے ہم اسے عبرت کی نشانی بنا دیتے ہیں‘ آپ کسی دن پاکستان میں کام کرنے والی ملٹی نیشنل کمپنیوں کا ڈیٹا نکال کر دیکھ لیں ‘آپ یہ جان کر حیران رہ جائیں گے ان کا آدھے سے زیادہ سٹاف سیکورٹی گارڈز اور وکلاءپر مشتمل ہے اور یہ لوگ کام کی بجائے عدالتوں میں بیٹھے نظر آتے ہیں‘
ملک میں کام کرنے والی تین بڑی ملٹی نیشنل کمپنیاں اس وقت ناک رگڑ رہی ہیں‘ یہ چور ثابت ہو رہی ہیں‘ کراچی میں میرے ایک دوست تھے جاوید اکھائی‘ یہ پاکستان کے پہلے بزنس مین تھے جنہوں نے ادویات سازی کی تین ملٹی نیشنل کمپنیاں خریدیں‘ یہ اربوں روپے کا کاروبار کرتے تھے لیکن پھر انہیں ایک نوٹس آیا اور وہ یہ نوٹس لے کر اسلام آباد میں پھرتے رہے‘ وہ پھرتے پھرتے پچھلے ماہ انتقال کر گئے‘ مجھے یقین ہے نوٹس پر کارروائی آج بھی جاری ہو گی اور یہ اس وقت تک جاری رہے گی جب تک یہ تینوں کمپنیاں بند نہیں ہو جاتیں‘
آپ میاں شہباز شریف کی مثال بھی لے لیجئے‘ نیب نے انہیں 60 دن حراست میں رکھا‘ یہ 60 دنوں میں ان کے خلاف کرپشن کا کوئی ثبوت پیش نہیں کر سکا‘آپ مزید آگے چلئے‘ احد چیمہ 10ماہ اور فواد حسن فواد پانچ ماہ سے نیب کی حراست میں ہیں‘ یہ ان کے خلاف بھی کوئی ثبوت نہیں لا سکا‘ نیب کورٹ نے107سماعتوں کے بعد 6 جولائی 2018ءکو میاں نواز شریف‘ مریم نواز اور کیپٹن صفدر کوسزا سنا ئی‘ یہ تینوں جیل پہنچ گئے لیکن 19ستمبرکو اسلام آباد ہائی کورٹ نے نیب کورٹ کے فیصلے پر چند سوال اٹھائے اور یہ تینوں اس وقت گھر بیٹھے ہیں‘

Easiest Countries for Immigration



 Easiest Countries for Immigration


Nicaragua
Nicaragua
Forget what you think you know about Nicaragua and see that it is a stunningly beautiful country with two pristine coastlines and passionate, caring people. It’s also great for stargazers – 86 out of 88 constellations in the night sky can be seen clearly in Nicaragua.If you’re intrigued, Nicaragua offers a retirement program similar to Ecuador’s, except you only need to show an income of $600 a month. The program is meant for people at least 45 years old, but this requirement is often waived if you have more than the base income.
And guess what? You don’t actually need to be retired to qualify. The government of Nicaragua has a lot of flexibility in what it calls work. For example, you could own a restaurant or small hotel and still be classified as retired. You can also continue to freelance for an overseas company and legitimately get the retirement visa.

Belize

If you want to spend your days on the beach, definitely take a look at Belize. The average temperature is 84F (29C), so you can have as many beach days as you want. Located between Mexico and Guatemala, Belize is a small country with a population that harmoniously represents no less than eight different cultures. It is also an English-speaking country with a very low cost of living.

http://www.destinationon.com/wp-content/uploads/2018/05/Belize.jpg 


10 Easiest Countries for Immigration


Belize
pxhere.com

7. Belize

If you want to spend your days on the beach, definitely take a look at Belize. The average temperature is 84F (29C), so you can have as many beach days as you want. Located between Mexico and Guatemala, Belize is a small country with a population that harmoniously represents no less than eight different cultures. It is also an English-speaking country with a very low cost of living.
Getting to Belize is pretty easy. You can enter on a 30-day visitor visa and simply keep renewing it every month until you’ve lived there for 50 weeks. At that point, a $1,000 fee and a few bureaucratic hurdles will get you permanent residency.
If that sounds like a doable plan of attack, you may want to engage a lawyer in Belize right away to keep you informed of any fine print. Some districts do require you to leave the country for two weeks every six months, which resets the clock on the 50-week requirement. And if you need to work while you await permanent residency, you could use some help to secure a work permit.

 

AIOU Bayan Halfi

AIOU Bayan Halfi
ETA Bayan Halfi
AIOU ETA Bayan Halfi
AIOU Bayan Halfi ETA
Bayan Halfi Form

AIOU Pert or Parat

AIOU Pert  or Parat
attach 3 pert with papers
after filling it.
Download
Click on image and then save as
then save
then open from the location where you have saved
normally it is in
pictures
or downloads

Tuesday, December 18, 2018

Plan B, Early Election by Imran Khan

”یہ پلان بی ہے‘ حکومت اگر بے بس ہو گئی تو یہ نئے الیکشن کرا دے گی“ صاحب نے جیب سے سگار نکالا‘ ماچس رگڑی اور شعلہ سگار کے سرے پر رکھ دیا‘ کمرے میں کیوبن سگار کی ہلکی ہلکی خوشبو پھیلنے لگی‘ مجھے تمباکو کی بو پسند نہیں ‘ مجھے اپنا دم گھٹتا ہوا محسوس ہوتا ہے لیکن سگار میں نہ جانے کیا جادو ہے مجھے اس کی خوشبو مدہوش کر دیتی ہے‘ میں دھوئیں کے اندر بیٹھا رہتا ہوں اور سگار کی خوشبو کلاسیکل موسیقی کی طرح میرے اندر بجتی‘ میرے باطن کو گدگداتی رہتی ہے‘
صاحب بھی آہستہ آہستہ مدہوش ہو رہے تھے‘ وہ سگار پی رہے تھے اور اپنے ریشمی گاﺅن کی ڈوریاں کھول اور بند کر رہے تھے‘ آتش دان میں لکڑیاں
چٹخ رہی تھیں‘ کمرے میں مدہم مدہم سی گرمائش تھی اور کھڑکیوں کے پٹوں پر بارش آہستہ آہستہ برس رہی تھی‘ صاحب ذوق کا مجسمہ ہیں‘ وہ آتش دان میں تھوڑی دیر بعد صندل کی چھال ڈال دیتے تھے اور کمرہ فوراً مہکنے لگتا تھا‘ میں نے صاحب سے پوچھا ”کیا عمران خان واقعی ارلی الیکشن کرا دے گا“ صاحب نے مسکرا کر جواب دیا ”ہاں یہ اس کا پلان بی ہے‘ اپوزیشن نے اگر قانون سازی میں حکومت کی مدد نہ کی تو خان حکومتیں توڑ کر ارلی الیکشن کرا دے گا“ میں نے حیرت سے پوچھا ”کیا آپ سیریس ہیں‘ حکومت کو ابھی جمعہ جمعہ چار ماہ بھی پورے نہیں ہوئے اورآپ ارلی الیکشن کے بارے میں سوچ رہے ہیں‘ کیا یہ عقل مندی ہو گی؟“ صاحب نے قہقہہ لگایا اور بولے ” آج کے دور میں عقل مندی کی توقع سے بڑی کوئی بے وقوفی نہیں‘ مقابلہ اب حماقت اور بہت زیادہ حماقت کے درمیان ہے“ وہ رکے‘ سگار کا لمبا کش لیا اور ہونٹوں کے کونوں سے دھوئیں اگلنے لگے‘ میں نے پوچھا ”لیکن عمران خان یہ حماقت کیوں کریں گے“ صاحب نے خوفناک مکروہ قہقہہ لگایا اور پھر بولے ”یہ سمجھتے ہیں حکومت کو اپنا ایجنڈا پورا کرنے کےلئے دو تہائی اکثریت چاہیے چنانچہ یہ پہلے اپنے مخالفین کو جیلوں میں پہنچائیں گے‘ میاں نواز شریف اپنے تمام اہم ساتھیوں خواجہ آصف‘ خواجہ سعد رفیق‘ احسن اقبال‘ شاہد خاقان عباسی اور پرویز رشید کے ساتھ جیل پہنچ جائیں گے‘
مولانا فضل الرحمن ‘ محمود خان اچکزئی اور بلاول بھٹو بھی پاکستان پیپلز پارٹی کے اہم لیڈروںکے ساتھ جیل میں ہوں گے‘ یہ تمام لوگ جب سات سات ‘دس دس سال کےلئے قید ہو جائیں گے تو عمران خان کو کوئی خطرہ نہیں رہے گا‘ یہ اطمینان سے ارلی الیکشن کروائیں گے اور دو تہائی اکثریت حاصل کر لیں گے“ میں نے بے چینی کے ساتھ کروٹ بدلی اور پوچھا ”لیکن بلاول بھٹو کیوں جیل جائیں گے‘ یہ کبھی اقتدار میں نہیں رہے‘ یہ درست ہے جے آئی ٹی نے سندھ میں 358 ارب روپے کے جعلی اکاﺅنٹس پکڑ لئے ہیں‘ ان اکاﺅنٹس کا آصف علی زرداری کے دوستوں کے ساتھ تو کوئی نہ کوئی تعلق ہو سکتا ہے لیکن بلاول بھٹو کے ساتھ نہیں‘
یہ بھی ثابت ہو رہا ہے آصف علی زرداری کے دوستوں نے بینک بنایا‘ بینک کی گارنٹی کی رقم کراچی کے سرکاری ٹھیکیدار قسطوں میں جمع کراتے رہے‘ ٹھیکیداروں نے اپنا جرم بھی تسلیم کر لیا اور جے آئی ٹی کو یہ بھی بتا دیا‘ یہ کس کے حکم پر کس کے اکاﺅنٹ میں کتنی رقم جمع کراتے رہے‘ یہ بھی ثابت ہو رہا ہے جعلی اکاﺅنٹس کے ذریعے رقم کراچی سے دوبئی‘ دوبئی سے سوئٹزر لینڈ اور وہاں سے لندن جاتی رہی اور یہ رقم لندن میں ایک خاتون اور برطانیہ میں پاکستان کے سابق ہائی کمشنر کے ایک صاحبزادے کے اکاﺅنٹ میں پارک ہوتی رہی اور یہ دونوں اس سے پراپرٹی خریدتے رہے لیکن اس میں بلاول بھٹو کا کوئی ہاتھ‘ کوئی عمل دخل نہیں تھا“۔

صاحب نے قہقہہ لگایا اور بولے ”بلاول بھٹو کی گرفتاری کی دو وجوہات ہیں‘ پہلی وجہ قانونی اور دوسری سیاسی ہے‘ ہم پہلے قانونی وجہ کی طرف آتے ہیں‘ آصف علی زرداری نے 2008ءمیں اقتدار میں آنے کے بعد اپنا کاروبار اور زیادہ تر کمپنیاں بچوں کے نام کر دی تھیں چنانچہ آصف علی زرداری قانوناً کسی اصلی یا جعلی اکاﺅنٹ اور کسی سودے کے بینی فشری نہیں ہیں‘ بینی فشری بلاول بھٹو ہیں‘ زرداری خاندان نے 2008ءسے 2014ءکے درمیان بلاول ہاﺅس کراچی کے دائیں بائیں اور آگے پیچھے موجود 48 گھر‘ پلازے اور زمینیں خرید یں‘ یہ پراپرٹیز بعدازاں بلاول ہاﺅس میں ضم کر دی گئیں‘
یہ خریداری جس کمپنی کے ذریعے ہوئی وہ بلاول بھٹوکے نام ہے‘ جے آئی ٹی کو چند کلیوز ملے ہیں جن سے اب یہ ثابت کرنا مشکل نہیں کہ رقم پہلے جعلی اکاﺅنٹس سے اس کمپنی میں آئی اور کمپنی نے یہ رقم بلاول ہاﺅس کے گرد موجود پراپرٹیز کی خریداری میں استعمال کی‘ یہ رقم 84 ارب روپے ہے چنانچہ بلاول بھٹو بڑی آسانی سے شکنجے میں آ جائیں گے‘ یہ قانونی وجہ تھی‘ میں اب تمہیں سیاسی وجہ بتاتا ہوں‘ عمران خان کو زرداری صاحب سے کوئی خطرہ نہیں‘ یہ بیمار بھی ہیں اور پارٹی ان کے امیج کی وجہ سے ان سے خوش بھی نہیں‘
حکومت کو اصل خطرہ بلاول بھٹو سے ہے‘ یہ باہر رہیں گے تو حکومت کےلئے حکومت مشکل ہو جائے گی‘ عمران خان بلاول کی موجودگی میں ارلی الیکشن کا رسک بھی نہیں لے سکتے چنانچہ بلاول کی گرفتاری حکومت کو سوٹ کرتی ہے‘ بلاول کے مقابلے میں اگر آصف علی زرداری گرفتار ہوتے ہیں تو حکومت انہیں اٹھا اٹھا کر ہسپتالوں میں بھی پھرتی رہے گی اور ان کی گرفتاری سے پاکستان پیپلز پارٹی کو نئی آکسیجن بھی مل جائے گی ‘ پاکستان تحریک انصاف کسی قیمت پر یہ نہیں چاہے گی
چنانچہ گرفتار بہرحال بلاول بھٹو ہی ہوں گے اور زرداری صاحب بیٹے کی رہائی اور جیل میں اس کےلئے رعایتوں کے بدلے حکومت سے ہر قسم کے تعاون کےلئے تیار ہو جائیں گے“ وہ خاموش ہو گئے‘ میں نے ان سے پوچھا ”اور میاں نواز شریف؟“ وہ اداس لہجے میں بولے ”میاں صاحب بے چارے اپنی زندگی کے مشکل ترین دور سے گزر رہے ہیں‘ مریم نواز اور کیپٹن صفدر ابھی تک جیل کے شاک سے نہیں نکلے‘ یہ دونوں بری طرح بیمار ہو چکے ہیں‘ کیپٹن صفدر نے وزن کم کرنے کےلئے لندن سے اپنا معدہ آدھا کروایا تھا‘
یہ جیل میں مخصوص خوراک نہیں کھا سکے چنانچہ یہ بری طرح بیمار ہو گئے‘ جیل میں گرمی اور حبس تھالہٰذا مریم نواز بھی بیمار ہو گئیں‘ میاں نواز شریف کو اپنی اہلیہ دنیا کی ہر چیز‘ ہر عہدے سے زیادہ عزیز تھیں‘ یہ ان کے انتقال کے شاک سے باہر نہیں آ سکے اور یہ شاید کبھی نہ آ سکیں‘ یہ دن کا ایک حصہ والدہ کے ساتھ گزارتے ہیں‘ ایک حصہ اہلیہ کی قبر پر صرف کرتے ہیں اور ان کا باقی وقت وکلاءاور تلاوت قرآن مجید پر خرچ ہوتا ہے‘ ان کی یادداشت بھی بری طرح متاثر ہو رہی ہے‘ یہ نام‘ مقام اور واقعات بھولنا شروع ہو گئے ہیں‘
یہ کسی قسم کا سمجھوتہ کرنے کےلئے بھی تیار نہیں ہیں چنانچہ حکومت کے پاس اب ان کےلئے دو آپشن ہیں‘ یہ انہیں جیل میں ڈال دے یا پھر میاں شہباز شریف سے یہ گارنٹی لے لے میاں نواز شریف سیاست سے کنارہ کشی اختیار کر لیں گے اور یہ باقی زندگی خاموش رہیں گے‘ حکومت اس گارنٹی کے بعد میاں نواز شریف کو ان کے حال پر چھوڑ دے مگر میاں نواز شریف یہ آپشن قبول نہیں کررہے لہٰذا یہ اب العزیزیہ اور فلیگ شپ کے مقدموں میں اندر ہو جائیں گے‘
پیچھے رہ گئے مولانا فضل الرحمن‘ محمود خان اچکزئی اور میاں نواز شریف کے قریبی ساتھی تو یہ چپ چاپ ملک سے باہر چلے جائیں گے یا پھر یہ بھی اندر ہو جائیں گے‘ ان گرفتاریوں کے بعد دونوں پارٹیوں کے پاس دو آپشن ہوں گے‘ یہ حکومت سے تعاون کریں‘ پارلیمنٹ کو قاعدے کے مطابق چلنے دیں‘ حکومتی بلوں کی حمایت کریں یا پھر حکومت جب بھی بل پاس کرانے لگے تو یہ واک آﺅٹ کر کے پارلیمنٹ ہاﺅس کی کینٹین میں چلے جائیں اور بل پاس ہونے کے بعد واپس آ جائیں یا پھر ارلی الیکشن کےلئے تیار ہو جائیں“ وہ خاموش ہو گئے۔
میں نے کرسی پر کروٹ بدلی اور پھر ان سے پوچھا ” کیا عوام مہنگائی‘ بے روزگاری‘ غربت‘ لاءاینڈ آرڈر کی دگرگوں صورتحال اور مس گورننس کے باوجود عمران خان کو ٹو تھرڈ میجارٹی دے دیں گے“ صاحب نے سگار کا ایک اور کش لیا اور ناک سے دھواں نکال کر بولے ”ہاں بڑی آسانی کے ساتھ‘ آپ کے تمام مخالف پہلوان جب اکھاڑ سے باہر ہوں گے اور جب فیصلہ کن قوتیں آپ کے ساتھ ہوں گی تو ٹو تھرڈ کیا آپ کو تھری تھرڈ میجارٹی بھی مل سکتی ہے اور عمران خان آسانی سے یہ حاصل کر لیں گے“
وہ خاموش ہو گئے‘ ملازم نے صاحب کی کافی کا کپ میز پر رکھ دیا‘ صاحب نے کپ اٹھایا‘ ناک کے قریب لا کر کافی کی خوشبو سونگھی‘ سرشار لہجے میں واہ واہ کیا‘ کافی کا ایک گھونٹ بھرا اور میری طرف متوجہ ہو گئے‘ میں نے ان سے پوچھا ”کیا عمران خان ٹوتھرڈ میجارٹی لے کر پرانے پاکستان کو نیا بنا دیں گے“ صاحب نے بلند قہقہہ لگایا اور گردن نفی میں ہلا کر بولے ”نہیں ہرگز نہیں‘ نیا تو دور پرانا پاکستان بھی مزید پھٹ جائے گا‘ عمران خان اپنی ناکامی سے پوری دنیا کو پریشان کر دیں گے‘ یہ اپنے تمام معاونین کے چھکے چھڑا دیں گے اور یہ مایوس ہو کر باہر چلے جائیں گے“
میں نے حیرت سے پوچھا ”وہ کیوں؟“ صاحب نے کافی کا دوسرا گھونٹ بھرا اور بولے ”اگر پتھر آپ کے راستے میں ہوں تو آپ اچھے جوتے پہن کر سفر جاری رکھ سکتے ہیں لیکن کنکر آپ کے جوتے کے اندر ہو تو سڑک یا راستہ خواہ کتنا ہی ہموار کیوں نہ ہو آپ چل نہیں پاتے‘ آپ سفر نہیں کر سکتے اور عمران خان کے راستے میں پتھر نہیں ہیں ‘ ان کے کنکر ان کے جوتے کے اندر ہیں اور یہ جب تک یہ کنکر نہیں نکالیں گے‘ یہ اس وقت تک سفر نہیں کر سکیں گے‘ خواہ یہ کتنے ہی ارلی الیکشن کرا لیں اور عوام خواہ انہیں کتنے ہی ووٹ دے دیں“میں نے صاحب سے ہاتھ ملایا‘ سلام کیا اور باہر آ گیا‘ باہر سردیوں کی پہلی بارش شروع ہو چکی تھی۔

Thursday, September 07, 2006

Remember the five simple rules to be happy :

Shake it off...

One day a farmer's donkey fell down into a well. The animal cried piteously for hours as the farmer tried to figure out what to do. Finally he decided the animal was old and the well needed to be covered up anyway, it just wasn't worth it to retrieve the donkey. He invited all his neighbors to come over and help him. They all grabbed a shovel and began to shovel dirt into the well.

At first, the donkey realized what was happening and cried horribly. Then,to everyone's amazement, he quieted down. A few shovel loads later, the farmer finally looked down the well and was astonished at what he saw.With every shovel of dirt that hit his back, the donkey was doing something amazing. He would shake it off and take a step up. As the farmer's neighbors continued to shovel dirt on top of the animal, he would shake it off and take a step up.

Pretty soon, everyone was amazed as the donkey stepped up over the edge of the well and trotted off!

Life is going to shovel dirt on you, all kinds of dirt. The trick to getting out of the well is to shake it off and take a step up. Each of our troubles is a stepping stone. We can get out of the deepest wells just by not stopping, never giving up!

Shake it off and take a step up! Remember the five simple rules to be happy :
1. Free your heart from hatred.
2. Free your mind from worries.
3. Live simply.
4. Give more.
5. Expect less.